
|
| |
| بے مہر موسم بے وفا پرندے |
| وقت اشاعت: Sunday, 1 November, 2009, 5:00 GMT 10:00 PST |
| پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کا دوسرا سال ختم ہونے کو ہے اور صوبہ کی عوام حکومتی جماعت کے گزشتہ الیکشن میں کئے گئے بلند و بانگ دعووں میں سے کوئی بھی ایک دعویٰ یا وعدہ پورا ہوتا ہوا نہیں دیکھا ہے۔ جبکہ مسلم لیگ (ن) کے قائدین میاں نواز شریف اور موجودہ وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف نے گزشتہ الیکشن میں جو دعوے اور وعدے کئے تھے ان میں سر فہرست مہنگائی، بے روزگاری کا خاتمہ اور آزاد عدلیہ کا قیام تھا۔ چیف جسٹس افتخار چوہدری جب اپنی بحالی کیلئے چلائی گئی وکلاء ملک گیر مہم کی قیادت کر رہے تھے تو میاں نواز شریف نے بھی اس جذباتی مہم سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کر لیا۔ میاں صاحب اس جذباتی مہم میں بھر پور طریقے سے شامل ہوئے اور لوگ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ اس ساری مہم کے تمام تر اخراجات جو کہ کروڑوں میں تھے میاں صاحب نے برداشت کئے ورنہ وکلاء بیچارے اپنے پلے سے کہاں خرچ کر سکتے تھے۔ جسٹس بحالی مہم کے سلسلے میں داتا دربار کے سامنے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے وکلاء کے نمائندوں چوہدری اعتزاز اور علی احمد کرد کو مخاطب کر کے کہا کہ صاحب آپ ہمارے لیڈر ہیں آپ آگے بڑھیں ہم آپکے ساتھ ہیں اور ساتھ ہی عوام کو مخاطب کر کے نواز شریف نے کہا تھا کہ اگر جسٹس صاحب بحال ہو گئے تو آپکو نوکریاں ملیں گی۔ مہنگائی کو 1990 ء کی سطح پر لے آئیں گے۔ ان تمام حربوں اور دعووں کے باوجود مسلم لیگ ن کو صرف صوبہ پنجاب میں ووٹ ملا جبکہ سرحد میں مسلم لیگ ن چند صوبائی اور دو ایک قومی نشستیں لے سکی جبکہ سندھ اور بلوچستان میں مسلم لیگ ن کے پاس امیدوار نہ تھے تو ووٹ کیا پڑتے۔ لہذا سندھ اور بلوچستان میں مسلم لیگ ن کو نہ تو کوئی سیٹ ملی سکی اور نہ ہی ن لیگ کسی جماعت کا کسی بھی حلقے میں مقابلہ کر سکی۔ جبکہ مسلم لیگ ن کی قیادت کا دعویٰ ہے کہ انکی جماعت ملک کی بڑی اور قومی جماعت ہے۔ پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومت ہے اور شہباز شریف بلا شرکت غیرے اکیلے حکمران ہیں مگر صوبہ کے عوام آٹا اور چینی لینے کیلئے لگی قطاروں میں اپنی عزت نفس کے ساتھ ساتھ اپنی جانیں بھی گنواں رہے ہیں جبکہ لا ء اینڈ آرڈر کی حالت یہ ہے کہ صرف لاہور میں تقریباً روزانہ ڈکیتیاں ہوتی ہیں اور دن دیہاڑے قتل ہوتے ہیں جبکہ حکمران اپنی گڈ گورننس کی کہانی سنائے جا رہے ہیں۔ مگر عوام وزیراعلیٰ اور وزیراعلیٰ کی انتظامیہ کے ہاتھوں ذلیل خوار ہو رہے ہیں۔ قارئین میاں برادران جب مشرف سے معاہدہ کر کے ملک سے باہر چلے گئے اور اپنے کارکنوں کو بے یارو مدد گار کر گئے اور پھر ملک سے باہر بیٹھ کر جودعوے اور بڑھکیں مارا کرتے تھے تو دوبارہ جب جنرل مشرف سے معاہدہ کر وطن واپس آئے اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد جس طرح میاں برداران نے صبح دوپہر شام الیکشن لڑنے اور نہ لڑنے کے فیصلے کئے یہ تماشہ بھی قوم نے دیکھا ۔ میاں برادران نے ایکطرف الیکشن لڑنے کا اعلان کرتے تو دوسرے دن الیکشن نہ لڑنے کا اعلان فرما دیتے۔ میاں برادران نے ملک سے باہر بیٹھ کر سب سے زیادہ جو شور کیا وہ یہ تھا کہ جو لوگ ہمیں (میاں برادران کو) چھوڑ کر حکومت میں شامل ہو گئے ہیں ہم انکو کبھی بھی دوبارہ واپس جماعت میں نہیں لیں گے جبکہ جو لوگ ہمارے ساتھ کھڑے ہیں یہ لوگ ہیرے جوہرات میں تولنے کے لائق ہیںاور قارئین پھر پوری قوم نے یہ تماشہ دیکھا کہ میاں برادران نے کس طرح سے اپنے مخلص اور قربانیاں دینے والے کارکنوں کو ہتک آمیز طریقے سے نظر انداز کر کے لوٹوں کو سر عام ٹکٹ دے کر نوازا گیا جبکہ اب بھی میاں برادران قوم کے ساتھ بڑے دھڑلے سے جھوٹ بول رہے ہیں کہ ہم نے لوٹوں کو قبول نہیں کیا۔ قوم حیران اور پریشان ہے کہ میاں میاں برادران قوم کو اسطرح سے بے وقوف بنا رہے ہیں جبکہ اب حکومت بھی ہے عدلیہ بھی آزاد ہے مگر وہ وعدے کیا ہو گئے؟ قارئین میاں برادران تکبر اور خود پرستی کے حصار میں مکمل طور پر بند ہو چکے ہیں اور میاں برادران کے ارد گرف صرف خوشامدی اور مطلب پرست ٹولہ چھایا ہوا ہے چاہے وہ میڈیا ایڈوائزر کی صورت میں ہو یا نام نہاد نمائندوں کی صورت مگر میاں برادران خوشامدیوں میں بری طرح گھر چکے ہیں ۔ میاں برادران کی حکومت میں لوگ مہنگائی غربت لاقانونیت اور نا انصافیوں کی وجہ سے خودکشیاں کر رہے ہیں جبکہ میاں برادران عوام کو کوئی ریلیف دینے کی بجائے جنرل مشرف کے احتساب کا بے مقصد لاگ سنا رہے ہیں اور قوم یہ بھی دیکھ رہی ہے اور سمجھ رہی ہے کہ میاں برادران عملی طور پر کبھی بھی جنرل مشرف کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے مگر قوم کوبلا وجہ بے وقوف بنایا جا رہا ہے۔ میاں برادران نے اپنے سابقہ دور میں قوم کو قرض اتارو ملک سنوارو کے نعرہ لگا کر لوٹا اور وہ کھربوں روپے کیا ہوئے پتہ چل سکا۔ جو لوگ اپنے قول و فعل میں اسطرح کا تضاد رکھتے ہوں اور اپنی پارٹی میں بھی تکبرانہ اور غیر جمہوری روئیے رکھتے ہوں اور اپنے مشکل وقت کے ساتھیوں کو نظر انداز کر کے لالچ میں لوٹوں کو سر عام نواز رہے ہوں ان لوگوں سے قوم کو بھلائی کی توقع رکھنی ہی نہیں چاہئے۔ میاں برادران کے تکبر اور ہٹ دھری کے خوف سے افسران صرف میاں برادران کی ہاں میں ہاں ملا کر اور اپنی عزت اور نوکریاں بچانے کے چکر میں عوام کی طرف سے بالکل غافل ہو چکے ہیں ۔ لہذا عوام کا کوئی پرسان حال نہیں۔ میاں برادران کی موجودہ پنجاب حکومت لوٹوں کی وجہ سے ہی قائم ہے۔ میاں برادران نے لوٹوں کو گلے لگا کر حکومت ضرور سنبھالی ہوئی ہے مگر عوام میں مسلم لیگ ن کا گراف بہت نیچے آ گیا ہے ۔ میاں برادران کے تکبرانہ منافقانہ اور لوٹا نواز طرز عمل کی وج سے مسلم لیگ ن کی عوامی سطح پر حیثیت کے بارے میں اپنے قارئین کو بتائیں گے اور میاں برادران کی لوٹا نوازی پالیسی کی وجہ سے گزشتہ الیکشن کا ایک چارٹ اپنے قارئین کی خدمت میں پیش کرینگے اور ابتدا کرتے ہیں مسلم لیگ ن کے صوبائی صدر ZA کھوسہ کے آبائی ضلع و ڈویژن ڈیرہ غازی خان سے کہ اس ڈویژن میں میاں برادران کے سفارشی اور لوٹے امیدواروں نے کتنے ووٹ حاصل کئے۔ قارئین ضلع ڈیرہ غازی خان اور ضلع مظفر گڑھ کے حلقوں کے رزلٹ پیش خدمت ہیں اور آئندہ بھی پورے پنجاب کے اضلاع کی گزشتہ الیکشن میں مسلم لیگ ن کے امیدواروں کے حاصل کردہ ووٹوں کے نتائج تبصرے کے ساتھ اپنے قارئین کی خدمت میں پیش کرینگے۔قارئین مسلم لیگ ن کی یہ کارکردگی تو گزشتہ الیکشن میں تھی جس میں 8 سالہ خود ساختہ جلا وطنی اور باقی تمام ملکی حالات کا سہارا لے کر اور زرداری کی مہربانی اور لوٹوں کی فراوانی کی وجہ پنجاب میں حکومت بنا لی مگر آج میاں برادران اپنا تھوکا خود ہی چاٹ رہے ہیں۔ کھلے عام برا بھلا کہنے والے میاں برادران اور فوجی آمر کو لٹکانے کی بڑھکیں لگانے والے میاں برادران قوم سے چھپ کر موجودہ آرمی چیف کو ملنے پہنچ گئے ۔ بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے: میاں برادران کا قوم سے مسلسل جھوٹ بولنا عوام کی عدالت سے میاں برادران کے فرار کا باعث بن رہا ہے۔ مگر کب تک ؟ اپنے دور اقتدار میں عدلیہ کو سر عام بے عزت کرنے والے اور آج پھر فوج سے چوری چھپے مذاکرات کرنے والے کس منہ سے عوام کی عدالت میں جا سکتے ہیں اور ویسے بھی ہمارے ملک کے سیاسی موسم اور ہمارے عوام کا تاج بن چکا ہے کہ جس سیاسی باری کی حکومت موجود ہوتی ہے آنے والے الیکشن میں حکمران جماعت ہمیشہ ہار جاتی ہے اور ہمارے آئین بھی یہی سیاسی ریکارڈ ہے۔ تو آنے والا الیکشن ن کیلئے سیاسی طور پر تباہی اور بربادی کا پیغام لے کر آئے گا۔
اسی طرح ضلع مظفر گڑھ کے صوبائی حلقوں کے نتائج پیش ہیں اور ان تمام حلقوں کے نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ مسلم لیگ ن کی قیادت نے سفارشیوں اور خوشامدیوں میں بینس کر این 176 میں سردار لاشی سمیت مخلص قربانیاں دینے والے کارکنوں کو نظر انداز کر کے پورے ضلع مظفر گڑھ میں اپنی جماعت کا جنازہ نکال دیا۔ نتائج پیش ہیں۔
این اے 177 ووٹ
حنا ربانی کھر(پی پی پی ) 84916
میجر خالد گورانی (ق ) 50834
ملک باسط کھر (ن) 5721
این اے 179 ووٹ
معظم خان جتوئی (پی پی پی ) 79643
مخدوم زادہ باسط سلطان (ق) 60637
رائو محسن علی خان(ن) 3698
مظفر گڑھ ۔پی پی 252 ووٹ
انجینئر بلال کھر (پی پی پی ) 24689
طارق گورمانی (ق) 21021
مدثر عباس کھر (آزاد) 14376
ملک خالد کھر(ن)غ 5444
پی پی 257 ووٹ
قصور کریم لنگڑیال(ایم ایم اے) 23536
سردار عون ڈوگر(ق) 18894
جام مظہر(پی پی پی ) 7993
چوہدری گل زمان خان(ن) 2120
پی پی 258 ووٹ
قیوم خان جتوئی(پی پی پی) 26756
مخدوم زادہ ہارون سلطان (ق) 26086
عطاء قریشی (ن) 3377
این اے 178 ووٹ
جمشید دستی (پی پی پی) 57964
نوابزادہ افتخار خان(ق) 42485
نوابزادہ منصور خان(پی ڈی پی) 30582
میاں احسان کریم قریشی(ن) 3089
این اے 180 ووٹ
قیوم خان جتوئی (پی پی پی) 68270
عاشق علی خان (ق) 63144
مخدوم جمیل بخاری(ن) 3549
پی پی 256 ووٹ
میاں عمران قریشی (ق) 22842
ظہور احمد بھٹی (پی پی پی ) 10924
نوبزانہ منصور خان(پی ڈی پی) 17233
چوہدری امجد خان(ن) 4095
پی پی 255 ووٹ
جواد کامران کھر(ق) 21835
نوازش قلنداری(آزاد) 20485
رانا محبوب (پی پی پی ) 21071
کیپٹن خالق ربانی کھر(ن) 2583
پی پی 260 ووٹ
شہزاد رسول جتوئی (پی پی پی) 30565
افضال مصطفیٰ(ق) 28508
ڈاکٹر اقبال مکول(ن) 2304 |
| |
|
|
|
 |