Home
National
Islamabad
Punjab
Sindh
Balochistan
Khyber Pakhtunkhwa
Gilgit Baltistan
Tribal Areas
Azad Kashmir
International
Sports
Showbiz
Images
 
سپریم کورٹ کی بعض صوبائی وزرا کے اغوا برائے تاوان میں ملوث ہونے کے حوالے سے دئیے گئے بیان کو ریکارڈ پر لانے کی ہدایت
وقت اشاعت: Tuesday, 3 April, 2012, 14:23 GMT 19:23 PST

کوئٹہ ...  سپریم کورٹ نے  ایڈووکیٹ جنرل کوصوبائی وزیر داخلہ کے بعض صوبائی وزرا کے اغوا برائے تاوان میں ملوث ہونے کے حوالے سے دئیے گئے بیان کو ریکارڈ پر لانے کی ہدایت کی ہے جبکہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران قرار دیا ہے کہ پولیس جرائم کی روک تھام میں مکمل ناکام ہے' یہاں ہر کوئی انجوائے کررہا ہے اور ایسے لگتا ہے کسی کو صوبے کا کوئی درد نہیں' حالانکہ آئی جی پولیس کو تو صوبے میں امن و امان کی ایسی صورتحال پر نیند ہی نہیں آنا چاہئے تھی'عدالت نے آئی جی پولیس سے کہا کہ کیا آپ کوپتہ ہے کہ صوبے سے ملنے والی لاشوں سے کیا پیغام جارہا ہے'باہر سے آنے والے لوگوں کو بسوں سے اتار کر بھی مارا جارہا ہے اور آپ یہ بھی بتائیں کہ کہ صوبے سے حالات کے باعث کتنے اساتذہ نے ہجرت کی۔چیف جسٹس آف پاکستان نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ملک میں سب سے زیادہ ہم بلوچستان کے لوگ محب وطن ہیں۔کوئٹہ میں سپریم کورٹ رجسٹری میںبلوچستان میں امن و امان کی صورتحال سے متعلق بلوچستان ہائی کورٹ بار کی جانب سے دائر کردہ آئینی درخواست کی چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کراچی کے حوالے سے سپریم کورٹ نے ایک مفصل فیصلہ دیا تھا لیکن اس پر بھی عمل نہیں ہوا۔ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان امان اللہ کنرانی نے پولیس کی تین سالہ کارکردگی کی رپورٹ عدالت میں پیش کی۔ ر

 
 
Click here to visit SuperWebz.com