
|
| |
| ججز حلف کے باعث معاملات راز میں رکھنے کے پابند ہوتے ہیں‘ چیف جسٹس |
| وقت اشاعت: Tuesday, 6 July, 2010, 11:17 GMT 3:17 PST |
| اسلام آباد(این این آئی) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ حلف کے باعث ججز معاملات کو راز میں رکھنے کے پابند ہوتے ہیں جبکہ اٹارنی جنرل ایسا کوئی حلف نہیں اٹھاتا اور جسٹس شاکر اللہ جان نے کہا ہے کہ ججز تقرر کے نئے عمل میں چیف جسٹس کی کوئی حیثیت نہیں رہی جبکہ جسٹس جواد ایس خواجہ نے حامد خان ایڈووکیٹ سے استفسار کیا ہے کہ اگر ججز تقرر کے لئے بنائے گئے کمیشن میں عوامی نمائندگان کو شامل کیا گیا ہے تو اس پر آپ کو کیا اعتراض ہے ۔ وہ منگل کو اٹھارویں ترمیم کی بعض شقوں کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کررہے تھے۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں سترہ رکنی لارجر بینچ کی طر سے سماعت کے آغاز پرحامد خان ایڈووکیٹ نے اپنے دلائل جاری رکھے ۔انہوں نے کہاکہ ججوں کی بھرتی کےلئے عدلیہ سے مشاورت ضروری ہے۔ججوں کی بھرتی کا عمل عدلیہ سے ہی شروع ہوتاہے، انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم میں ججز تقرر کے عمل میں مشاورت کو ختم کردیا گیا ہے جبکہ سپریم کورٹ نے پی سی او ججز کیس میں چیف جسٹس سے مشاورت کو لازمی قرار دیا تھا۔ |
| |
|
|
|
 |