
|
| |
| *******معیشتوں کے مابین انوکھا ، ان دیکھا پل.********
زاہد یعقوب خواجہ
اسلام آباد |
| وقت اشاعت: Saturday, 3 April, 2010, 12:10 GMT 17:10 PST |
| نوید احمد، عالیہ ترکی الربیعو اور روزانا تانتوشیان کہتے ہیں کہ وہ انسان خوش قسمت ہے جس کی صلاحیتیں درست جگہ استعمال ہوجائیں۔ معاذ البرماوی پاکستانیوں کی صلاحیت کو درست جگہ پر استعمال کرنے کے لیے گزشتہ 3عشروں سے تگ و دو میں لگے ہوئے ہیں۔ وہ انسان کی صلاحیت کے پرکھنے کے ایسے جوہری ہیں کہ ذرا کی کاٹ اور تراش سے ہیرے کی قدرو منزلت میںاضافہ کردیتے ہیں۔ وہ مشرق وسطی، جنوبی کوریا، ملائیشیا اور سوڈان میں ایسے باصلاحیت پاکستانیوں کو بھجواتے رہے ہیں ان کی محنت، لگن اور ایمان داری نے جہاں ان پاکستانیوں کے حالات بہتر کیے وہیں ملک کی نیک نامی اور ترسیلات زر میں اضافہ بھی ممکن ہوا۔
شامی نڑاد پاکستانی معاذ البرماوی کو انسانی صلاحیتوں کے پرکھنے کا فن اپنے والد یوسف البرماوی سے ملا۔ ان کے والد 65 سالہ یوسف البرماوی کو اس وقت پاکستان میں ایک نیا وطن میسر آیا جب وہ 1970 کی دہائی میں شام سے پاکستان افرادی قوت حاصل کرنے کے لیے آئے۔ یوں انہوں نے پاکستان سے تعمیرات، تیل کی تلاش، صنعت و زرعی شعبوں سے وابستہ ہنر مند افرادی قوت کو وسطی ایشیا روزگار دلوانے لے گئے۔ کاروبار کے ساتھ ساتھ یوسف البرماوی نے اپنی تعلیم بھی جاری رکھی اور بزنس ایڈ منسٹریشن میں Ph.D کیا۔ ادھر وہ اردن کے ساتھ شام کی جنوبی سرحد پر واقع ایک چھو ٹے نسبتا قدامت پسند قصبے میں اپنے 4بیٹے اور تین بیٹیوں کو چھوڑ کر پردیس گئے اور سعودی کمپنیوں کے لیے تعمیرات او ر تیل کی تلاش کے شعبوں کے لیے افرادی قوت بھرتی کرنے میں مشغول رہے۔
1970 اور 1980 کی دہائی میں افرادی قوت کی برآمد کا کاروبار عروج پر تھا۔ ڈاکٹر یوسف البرماوی کو اپنے بیٹے معاذ البرماوی کی صورت میں ایسا بازو ملا کہ یہ دونوں باپ اور بیٹا ایک اور ایک دو ہونے کی بجائے ایک اور ایک گیارہ ہوگئے۔ معاذ نے اس وقت اردن یونی ورسٹی سے بزنس مینجمنٹ میں گریجویشن کیا۔ معاذ اپنی 18سالہ شامی بیوی میو سن کو لے کر کراچی پہنچے اور نئی ازدواجی زندگی کے ساتھ نیا کیریئر بھی شروع کیا۔آج 23 سال بعد معاذ اپنے خاندان کے ساتھ خوش گوار زندگی گزارنے کے ساتھ ساتھ ایک کامیاب کاروباری شخصیت بھی ہیں اور ان کے پاس اتنا کام ہے جو ان کو چھٹی والے دن بھی مصروف رکھتا ہے۔ گزشتہ 3 سال سے پاکستان کی معیشت جمواد کا شکار ہے۔ صنعتی ترقی کی شرح منفی اعشاریوں میں گردش کر رہی ہے۔ روزگار کے مواقع سکڑتے جا رہے ہیں۔ کئی پیداواری یونٹس دیوالیہ ہوکر بند ہوچکے ہیں۔ ایسے میں معاذ البراماوی کا کاروبار چمکنا کئی خاص محرکات کے بنا ہی ممکن ہوا ہے۔معاذ البرماوی انسانی وسائل کی ترقی کے لیے نئی منڈیوں کی تلاش پرخاص توجہ دیتے رہے ہیں۔افرادی قوت کو بھرتی کرنے والی ان کی کمپنی MYB انٹرنیشنل پرائیویٹ لیمیٹڈ پاکستانی ماہرین کو بیرون ملک ملازمین دلوانے میں خصوصیت سے جانی جاتی ہے۔ یہ کمپنی بخوبی یہ جانتی ہے کہ کس ملک میں کس طرح کی افرادی قوت درکار ہوگی۔ معاذ نے 10 ہزار سے زائد پاکستانیوں کوکئی ملکوں کی تعمیرات اور صنعت کی کمپنیوں میں ملازمتیں دلوائی ہیں جن میں جنوبکوریا، ملائیشیا اور سوڈان قابل ذکر ہیں۔آئی ایم ایف کی بیساکھیوں پر چلنے والی پاکستان کی معیشت میں بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلات زر 8 ارب ڈالر سالانہ تک پہنچ رہی ہیں۔ امریکا اور یورپ کے ساتھ بہتر تعلقات کے پیش نظر پاکستانی حکومت کا اندازہ ہے کہ آیندہ تین سے پانچ سال میں یہ رقم اٹھارہ ارب ڈالر تک ہو جائے گی کیونکہ اس سے زیادہ پاکستانی بیرون ملک روزگار کے لیے جا رہے ہوں گے۔
بعض لوگوں کے نزدیک افغانستا ن کے سرحد کے ساتھ واقع پاکستان کے قبائلی علاقوں میں جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ اور آئے دن کے بم دھماکوں کو سامنے رکھتے ہوئے افرادی قوت کی برآمد کے حکومتی اندازے حقیقت پسندانہ نہیں لیکن معاذ کا خیال ایسا نہیں ہے۔ معاذ کہتے ہیں کہ '' ایک پاکستانی دوسرے ممالک کے شہریوں کی نسبت تین گنا کام کرتا اور پیداوار دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی افرادی کو ابھرتی اور تیزی سے نمو پانے والی معیشتوں میں خوش آمدید کہا جاتا ہے''
معاذ جلد ہی بہت سارے یورپی ممالک کے ساتھ معاہدے کرنے والے ہیں جن کے باعث پاکستان سے زراعت میں کام کرنے والے مزدورں کو بھی بیرون ملک روزگار ملے گا۔ پاکستان کی 17 کرو ڑ سے زائد آبادی دنیا کے ان چند خوش نصیبوں میں شامل ہے جن کے ہا ں 15 سے 35 سال کی جوان نسل آبادی کا 40 فی صد سے زائد ہیں۔ زرعی معیشت ہونے کی وجہ سے پاکستانی اچھی طرح جانتے ہیں کہ ناقابل استعمال زمین کوجدید ٹیکنالوجی کے بغیر سرسبز اور لہلاتی فصلوں سے کیسے آباد کیا جاتا ہے ?۔ زراعت صدیوں سے ان کی زندگی کا حصہ رہی ہے۔
معاذ البرماوی نے پاکستان کی قومی زبان اردو میں روانی سے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ '' ہم پاکستان کی افرادی قوت کو ایک نئی اٹھان دینے کے لیے بھرپور محنت کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم بیرونی دنیا میں پاکستا کا تصور بہتر بنانے اور پاکستان کو محنتی افراد کے طور پر تسلیم کروانے کے لیے ان کی مدد بھی کر رہے ہیں''
معاذ کی خوشی کابڑا موقع وہ ہوتا ہے کہ جب ان کی کمپنی کی طرف سے بیرون ملک بھجوائے گئے افراد میں سے کوئی واپسی پران سے ملنے چلا آئے۔ ان کو اس طرح کے مواقع وقتا فوقتا ملتے رہتے ہیں۔
انور یوسف زئی جن کا تعلق شمال مغربی پشاور سے ہے۔ وہ حال ہی میں معاذ کے لیے کھجوریں، مٹھائیاں اور موبائل فون لائے ہیں۔ وہ جنوبی کوریا میں ہوتے ہیں جہاں ان کو معاذ کی کمپنی نے بطور الیکٹریشن بھجوایا تھا۔
انور کا کہنا ہے کہ مجھے 6سال قبل روزگار ملا جس کے بعد میرے معیار زندگی میں اس قدر بہتری آئی ہے کہ میں اپنی دو بہنوں کی شادی کرنے کے قابل ہوگیا ہوں۔ انہوں نے اپنے بھائی کو ایک کریانہ اسٹور بھی کھول کر دیا ہے۔ اس طرح روزگار کے حصول کی کوششیں کرنے والے انور یوسف زئی آج اپنے بھائی کے لیے روزگار کا وسیلہ بن گئے۔
انور کہتے ہیں کہ انہوں نے 6 سال میں کورین لوگوں کو بہت اچھی طرح سمجھا اور وہ کورین عوام کی بھی اتنی ہی عزت کرتے ہیں جتنی محبت ان کو پاکستانیوں سے ہے۔
ی معاذ کا کام بیرون ملک بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ معاذ نے دنیا بھر سے آنے والے شکریے اور تعریف کے خطوط سے اپنے دفتر کی دیواروں کو مزین کر رکھا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کے پشتون مزدوروں کی مانگ بہت زیادہ ہے اوران معاوضہ بھی بہت اچھا ملتا ہے۔ وہ اپنی محنت اور دیانت داری کی وجہ سے جانے جاتے ہیںلیکن اس کے ساتھ ساتھ طالبان سے مشابہہ حلیہ ان کے بارے میں کچھ خدشات بھی پیدا کرتا ہے۔
'' جس کسی کا بھی پشتونوں سے کوئی تعلق رہ ہے اور وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ لوگ کتنے محنتی اورمخلص ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں اپنی عزت نفس جان سے بھی پیاری ہوتی ہے۔ ایک یورپی ملک کے پاکستان میں متعین سفارت کار نے اپنا نام نہ بتانے کی درخواست کرتے ہوئے بتایا کہ '' ہر کسی داڑھی والے کو طالبان کے ساتھ جوڑ دینا جانچنے میں کمی کا مظہر ہے''
پاکستان میں سیاسی صورت حال ہر لمحہ بارود کی طرح بھک سے اڑ جانے والی ہے۔ جنوری 2010 کے واقعات کا تسلسل بتا رہا ہے کہ دہشت گردوں نے کراچی شہر میں آدھا درجن سے زائد کاروائیاں کی ہیں۔ کئی افراد گینگ مافیا کے باہمی تصادم اور سیاسی جھگڑوں کی بھینٹ چڑھ گئے ہیں۔ نیم فوجی دستوں نے کراچی شہری آبادی کے کئی حصوں میں کارروائیاں کی ہیں جو کہ ایک سرکاری اندازے کے مطابق سولہ لاکھ گھروں پر مشتمل ہے۔ اس سب کے باوجود کراچی معاذ اور اس کی بیوی میو سن کے لیے محفوظ شہر ہے۔
اگرچہ اس کا خاندان پاکستان کو مکمل طور پر اپنا یا ہوا ہے تاہم مغرب میں پاکستان کسی بھی لمحے بھک سے اڑ جانے والے ملک کی نظر سے دیکھے جانے کے سبب درہ شہر میں میو سن کا خاندان ان کی سلامتی کے لیے متمنی رہتا ہے۔ میو سن ہر سال اپنے آبائی علاقے میں جاتی ہے توان خدشات کو کم کرنے اور پاکستان سے متعلق ان کی رائے کو تبدیل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ میو سنکہتی ہے کہ '' میں انہیں بتاتی ہوں کہ پاکستان ایک بڑا خوب صورت ملک ہے۔ تم لوگ ایک دفعہ یہاں آو¿ اور اسے خود سے دیکھو۔ مجھے کراچی کی ہر چیز پسند ہے۔ میں یہاں خریداری کرنا پسند کرتی ہو۔ سمندر کا نظارہ میرا دل مول لیتا ہے''
معاذ پاکستانی مڈل کلاس اور پھر انہیں جن ملکوں میں جا کر کام کرنا ہوتا ہے وہاں کے لوگوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرتا ہے۔ شام کے سرحدی قصبہ درہ میں اس کی بیمار ماں کو اپنے لاڈلے ، خاموش طبع اور پر عزم بیٹے سے ملاقات کے لیے طویل انتظار کرنا پڑتا ہے۔
میو سن کے بارے میں درہ شہر میں جو تصور قائم ہے وہ بھی بالکل مختلف ہے۔ درہ میں رہنے والی معاذ کی 47 سالہ بہن عمیمہ البرماوی کا کہنا ہے کہ '' میو سن اب اپنے لباس، میک اپ، رویے اور طرز گفتگو سے ایک پاکستانی دکھائی دیتی ہے وہ شامی کھانوں کی طرح پاکستانی کھانے بھی بڑے اچھے بنالیتی ہے۔
معاذ بھی اب دیکھنے میں نمایاں طور پر تبدیل ہوچکا ہے۔ درہ میں رہنے والے معاذ کے 39 سالہ بھائی عاصم البرماوی نے اپنی یاداشتوں کو کنگھالتے ہوئے کہا '' مجھے نہیں یاد پڑتا کہ کبھی کسی نے آ کر معاذ کا پوچھا ہو۔ اس کے دوست تھے ہی نہیں۔ وہ ایک خاموش لیکن پر عزم انسان تھا۔ جسے کاریں پسند تھیں اور جو اپنا کاروبار کرنا چاہتا تھا۔'' |
| |
|
|
|
 |