آخری وقت اشاعت: Saturday, 20 March, 2010, 13:18 GMT 18:18 PST
 
”نوروز“ اور تاجکستان ،تحریر:زبیدوف زبیدلو
وقت اشاعت: Saturday, 20 March, 2010, 13:18 GMT 18:18 PST
تحریر:زبیدوف زبیدلو،سفیر تاجکستان،تاجک سفارتخانہ، اسلام آباد ... . پہاڑوں اور پریوں کی سرزمین تاجکستان جنت ارضی کا بہترین نمونہ ہے۔ جغرافیائی لحاظ سے اس کی اہمیت مسلمہ ہے۔ یہ نہ صرف وسطی ایشیائی ممالک کے لئے گیٹ وے کا کام دیتا ہے بلکہ بیش بہا قدرتی وسائل سے بھرا پڑا ہے۔ لوگ محنتی‘ شفیق اور پرامن ہیں‘ مہمان نواز ایسے ہیں کہ اپناثانی نہیں رکھتے‘ اپنی تہذیب اور ثقافت سے لگا¶ یہاں کے باشندوں کی زندگی کا حصہ ہے۔ یہ لوگ مکمل جوش‘ جذبے اور عقیدت سے اپنے تہواروں کو مناتے ہیں۔ موسم گل کی آمد پر21مارچ کو یہاں ”نوروز“ منایا جاتا ہے۔ نوروز کا مطلب نئے سال کا آغاز ہوتا ہے۔ اس روز رات اور دن کا دورانیہ یکساں ہو جاتا ہے۔ تاجکستان کے بسنے والے ایک نوروز ”جشن مہرگان“ کے نام سے بھی مناتے ہیں۔ آغاز میں نوروز کا تہوار مختلف ایام میں منایا جاتا تھا لیکن بعد میںیہ مخصوص تاریخوں کو منایا جانے لگا۔ شروع شروع نوروز سے پانچ روز قبل ایک رسم ادا کی جاتی تھی جسے ”سوگ سیووش“ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ خراسانیوں نے نوروز کا تہوار 21 روز تک منایا لیکن آہستہ آہستہ ایام گھٹتے گھٹتے 6 تک محدود ہوگئے۔ تاریخ نوروز شہنشاہ جمشید سے جاملتی ہے۔ قدیم شعرا اور دانشوروں کی کتب میں بہت سی روایات و معلومات ملتی ہیں۔ ابوریحان البیرونی‘ نوروز یعنی فرور دین کے مہینے کے پہلے روز کو اس طرح واضح کرتے ہیں۔جب جمشید نے اپنے لئے سواری بنائی اس دن اس پر سوار ہوا اور جنات اسے ہوا میں لے گئے اور ایک دن میں دماوند کے پہاڑ سے بابل آیا اور لوگ اسے دیکھ کر حیران رہ گئے اور پھر اسی دن عید منائی گئی نوروز کے پرمسرت موقع پر گلزاروں اور رنگا رنگ گلستانوں میں مختلف پرندے بہاروں کی مسحورکن ہوا¶ں کے سروں کے ساتھ آواز ملا کر اور نغمے گا گا کر جشن نوروز کو چار چاند لگا دیتے ہیں اللہ تعالیٰ کی یہ نعمتیں انسان کو ایک نئی طاقت دیتی ہیں۔اسلام کی آمد سے اس معاشرتی رسم پر کوئی قدغن عائد نہیں ہوئی۔ شروع میں مشرقی کسان اور مزدور انتہائی عقیدت و احترام سے اس رسم کو ادا کرتے تھے اور پھر آہستہ آہستہ خواص و عام اس سے لطف اندوز ہونے لگے۔ بنیادی طور پر نوروز شمسی سال کا آغاز ہوتا ہے۔ پرانے زمانوں میں لوگ اس روز دو رکعت نماز ادا کرنے کے بعد ایک دوسرے پر پانی پھینک کر خوشی مناتے تھے۔ تاجک اب بھی اپنے آباءکی اس رسم پر کاربند ہیں۔نوروز یعنی جشن بہاراں شاہراہ ریشم کے اطراف میںرہنے والی اقوام کے ہاں بہت مقبول ہے۔ یہ جشن وسطی ایشیا‘ روس‘ چین‘ افغانستان‘ پاکستان‘ بھارت‘ ترکی‘ ایران اور بوسنیا میں بطور خاص منایا جاتا ہے۔ نوروز کی رسومات وسطی ایشیا ئی ممالک کے ہاں قریب قریب ایک جیسی ہیں جگہ دیگر اقوام میں خاصا فرق آ چکا ہے۔ سوویت یونین سے آزادی حاصل کرنے کے بعد وسطی ایشیائی ریاستوں نے باقاعدہ طور پر اس روز چھٹی کا اعلان کیا۔ خیال کیاجاتا ہے کہ نوروز کے دن آپ جس سوچ‘ فکر جوش اور جذبے کا مظاہرہ کریں گے پورا سال آپ کا ویسا ہی گزرے گا۔ یہ رنجشوں کو مٹانے کا دن ہوتا ہے۔ لوگوں کے لئے نیک تمنا¶ں کا دن ہوتا ہے۔ امن کے فروغ کا دن ہوتا ہے اور سب سے بڑھ کر دکھ درد اور خوشی میں مل بیٹھنے کے لئے نئے عہد کا دن ہوتا ہے۔ لوک داستانوں کے مطابق یہ کہا جاتا ہے کہ نوروز کے دن گھر میں قدم رکھنے والا پہلا شخص سال بھر آپ کی زندگی پر اثرانداز ہو گا۔ عموماً پرہیزگار‘ حلیم طبع اور ذہین شخص کی قدم رنجی کو مستحسن خیال کیاجاتا ہے۔ ہر ملک اور علاقے میں نوروز کی رسومات خاصی مختلف میں لیکن تاجکستان پر چونکہ ترکوں کی نسبت فارسی چھاپ زیادہ ہے اس لئے یہاں قدرے مختلف انداز سے یہ تہوار منایا جاتا ہے۔ تاجکستان میں خاندان کا سربراہ یا اس کا بیٹا شاشلک کوکوٹ کر ایک خاص قسم کی سویٹ ڈش تیار کرتے ہیں جس کا مقصد آنے والے سال کے لئے امن‘ محبت‘ مٹھاس اور بھائی چارے گا پیغام ہوتا ہے۔ کچھ پہاڑوں کے رہنے والے اس رسم کا آغاز مختلف طریقے سے کرتے ہیں مثلاً نوجوان اپنے ایسے مہمائے کے صحت کو چوری چوری دھو دیتے ہیں جس کے ہاں جوان بیٹی ہو‘ اگر وہ دھلائی کے دوران پکڑے جائیں تو میزبان انتہائی اعلیٰ ضیافت کا اہتمام کیا جاتا ہے بصورت دیگر جس شخص کے صحت کو دھویا جاتا ہے وہ آنے والوں کو پرتکلف دعوت دیتا ہے۔نوروز کی آمد سے قبل یہ لازم خیال کیا جاتا ہے کہ گھر بار کی صفائی ستھرائی‘ تزئین و آرائش‘ کھانا پکانا مکمل ہو جائے اور اس روز گھر کے سربراہ‘ والدین اور اساتذہ سے دعائیں لی جاتی ہیں۔ زمانہ قدیم سے تاجکستان کے دیہاتوں میں نوروز کے موقع پر خصوصی میلے لگتے ہیں۔ بازار سجائے جاتے ہیں‘ گھڑ دوڑ‘ کتوں اور مرغوں کی لڑائی کا اہتمام کیاجاتا ہے۔ تاجک بنیادی طور پر انتہائی پرامن اور مہمان نواز ہیں۔ کھانے کی دعوت کو رد نہیں کیا جاسکتا اور پابندی وقت کو بھی محلوظ خاطر رکھا جاتا ہے۔ نوروز کے اختتام پر کھیتوں میں کام کا آغاز معتبر اور دانش مند شخصیت سے کروایا جاتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس حوالے سے چند نئی رسومات کا اضافہ بھی ہو چکا ہے۔ آئیے ہم بھی عہد کریں ایک نئی سوچ کے ساتھ زندگی گزارنے کی تمنا کریں ایسی دنیا کی جہاں مسرتیں ہی مسرتیں ہوں‘ امن ہی امن ہو۔پاک تاجک دوستی زندہ باد۔
 
 
Click here to visit SuperWebz.com