NNI.(News Network International)
our English page is being updated/redesigned, for URDU NEWS visit nni-news.com.pk
..........
نیوزنیٹ ورک انٹرنیشنل(این این آئی)پاکستان کی سب سے دیرینہ معتبرنیوزایجنسی ہے جس کی بنیاد حافظ عبدالخالق(مرحوم) نے 1992میں رکھی،موجودہ دورمیں این این آئی اپنی خدمات کے دائرے کو دنیا بھرمیں وسعت دے رہی ہے اورریڈیو ،ٹیلی ویژن ،اخبارات اورکمپنیوں کے ہزاروں موکل اس کی خدمات سے مستفید ہورہے ہیں ملک کے اندرپشاور،لاہور،ملتان،فیصل آباد،کوئٹہ اورکراچی میں بیورودفاتر جبکہ گلگت ، مظفرآباد ، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، قصور، وہاڑی، حیدرآباد، سکھرجیسے شہروں میں ریجنل دفاتر کام کررہے ہیں جہاں سے موکلان کی ضروریات کومدنظررکھتے ہوئے اعلیٰ معیار کی حامل قومی اوربین الاقوامی نیوزسروس فراہم کی جارہی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حافظ عبدالخالق (مرحوم)
حافظ عبدالخالق (مرحوم)نے اپنے صحافتی کیریئرکاآغاز ضلع خانیوال کے ایک دورافتادہ علاقہ چاندی والہ سے کیااوراپنی خداداد صلاحیتوں اورفعال شخصیت کے بل بوتے پر صحافتی دنیا میں کامیابی کی ایک مثال بن گئے گریجویشن کے بعد حافظ عبدالخالق نے شعبہ صحافت سے وابستگی اختیارکی جہاںسیاست ،اقتصادیات ،انسانی حقوق اورسماجی موضوعات نے ان کی خصوصی دلچسپی حاصل کی اورانہوںنے متعدد مسائل کے حل میں اپناکرداراداکیا۔وہاڑی کے اردوروزنامہ انسانیت سے بطوررپورٹرمنسلک ہونے کے کچھ عرصہ بعدہی ملک کے موقراخبارروزنامہ” نوائے وقت“ نے انہیں اپنا ضلعی نمائندہ مقرر کردیا۔بعدازاں روزنامہ” جسارت“ کی طرف سے ملتان اورپھرصوبائی دارالحکومت لاہور کے بیوروچیف کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیں
اسلام آباد میں اردوروزنامہ مرکز کے ایڈیٹرکے طورپر خدمات سرانجام دینے کے علاوہ نامورجریدے ہفت روزہ ”تکبیر“ کراچی اورہفت روزہ ”حرمت“کیلئے بھی خدمات سرانجام دیتے رہے ۔ ملک کے دارالحکومت اسلام آباد نے حافظ عبدالخالق (مرحوم) کی پیشہ ورانہ خدمات کابھرپور اعتراف کیا اوروہ سرکاری ،سیاسی،کاروباری اورتجارتی حلقوں میں ایک اہم اور باوقارشخصیت کے طورپرجانے جاتے تھے۔ اس موقع پر حافظ عبدالخالق(مرحوم) نے ملک میں ایک اردو خبررساں ادارے کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے 1992ءمیں نیوزنیٹ ورک انٹرنیشنل(این این آئی)کی بنیادڈالی اورمحدود وسائل کے باوجود اپنی انتھک محنت اوردن رات کی کوششوں سے نیوزایجنسی کو اپنے پاوں پر کھڑا کرنے میں کامیاب ہوگئے اس دوران انہوں نے روزانہ بیس ،بیس گھنٹے تک کام کیا۔ اس دوران ایجنسی ترقی کی منازل طے کر نے لگی تاہم دن رات کام کی وجہ سے حافظ عبدالخالق کی صحت نے زوال پذیرہوناشروع کردیا۔ اورپھر وفاقی دارالحکومت کے صحافتی اورسماجی حلقوں پر یہ خبربجلی بن کر گری کہ این این آئی کے بانی کینسرجیسے مہلک مرض میں مبتلا ہوچکے ہیں اپنے مضبوط اعصاب کے سہارے وہ بیماری سے مسلسل برسرِپیکار رہے تاہم مرض غلبہ حاصل کرتاگیا اورحافظ عبدالخالق نے 4جولائی1999ءکوداعی اجل کولبیک کہا اس وقت این این آئی ملک کی ایک معروف اورمعتبر خبررساں ایجنسی کی شکل اختیار کرچکی تھی ۔ حافظ عبدالخالق (مرحوم) کے نوجوان اورپرعزم بیٹے عماریاسر اپنے مرحوم والدکامشن جاری ر کھنے کیلئے کوشاں ہےں اپنے والد کی طرح دھیمے پن ،معاملہ فہمی اوردوراندیشی جیسی خوبیوں کے حامل عماریاسرہمہ وقت اپنی ٹیم کاحوصلہ بڑھانے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں حافظ عبدالخالق کے مشن کو آگے بڑھانے اور مستقبل کے اہداف کے حصول میں این این آئی کی ٹیم ان کے شانہ بشانہ ہے ملک میں متعددٹی وی چینلز اورنیوزایجنسیوںکی موجودگی میں این این آئی اپنے موکلان کوبروقت اورمعیاری خبریں فراہم کرکے اپنی منفرد شناخت برقرار رکھے ہوئے ہے اوراسے دنیا بھرمیںپاکستان کی ایک معتبرنیوزایجنسی سمجھاجاتاہے۔این این آئی کی ٹیم ایجنسی کے بانی حافظ عبدالخالق(مرحوم)کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے جن کی شبانہ روز محنت کے نتیجہ میں این این آئی صحافتی دنیا کاایک قابل اعتماد نام بن چکی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
این این آئی ملک بھرمیں موجود 1250پیشہ ورنمائندگان،رپورٹرز اورنامہ نگاروں کے نیٹ ورک کی وجہ سے پاکستان کاسب سے بڑا نیوزنیٹ ورک قرارپاتی ہے ۔ جبکہ دنیا کے مختلف ممالک کے اہم شہروں میں تعینات نمائندگان بھی اپنے علاقہ کی تازہ ترین خبریںاسلام آباد میں قائم مرکزی دفتر مل تک پہنچارہے ہیں، جہاں ملک کے کونے کونے اوردنیاکے مختلف شہروں سے موصول ہونیوالی نمائندگان کی تازہ ترین خبروںاوررپورٹوں کے علاوہ شعبہ مانیٹرنگ کے تحت ٹی وی/ریڈیواورانٹرنیٹ سے حاصل ہونیوالی خبروں کی نہایت سرعت اورپیشہ ورانہ مہارت کےساتھ تدوین کی جاتی ہے اوراخبارات ،ٹی وی چینلز،ریڈیوسٹیشنزاورکمپنیوں کو فوری طورپرترسیل یقینی بنائی جاتی ہے
این این آئی نے عالمی سطح پر اپنے نیٹ ورک کو توسیع دینے کی پالیسی کے تحت دنیا کے متعدد شہروں میں نمائندگان تعینات کرنے کافیصلہ کیا ہے اورمزیدبین الاقوامی صارفین /موکلان تک پہنچنے کیلئے پرعزم ہے تاکہ عالمی سطح پرصحافتی دنیاکی ایک موثراورمعتبرنیوزایجنسی بن کرابھرے ۔پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن (ریڈیو پاکستان)کیلئے بزنس اپ ڈیٹ کانشریاتی تجربہ حاصل کرنے کے بعداین این آئی اپنے ہیڈ آفس میں ایک بزنس نیوزپروڈکشن ہاﺅس قائم کرنے کاارادہ رکھتی ہے ۔علاوہ ازیں تعلقات عامہ (پبلک ریلیشن) کے ایک الگ شعبہ کاقیام اورصحافت کے شعبہ میں آنے والے نئے لوگوں کیلئے ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کااجراءبھی این این آئی کے مستقبل قریب کے منصوبوں کاحصہ ہے۔
این این آئی اخبارات ،ٹی وی چینلز،ریڈیوسٹیشنزاورکمپنیوں کو انگریزی ،اردو،پشتو،سرائیکی اورسندھی زبانوں میں خدمات مہیا کررہی ہے اوراس کے صارفین پاکستان کے علاوہ امریکہ،یورپ مشرق بعید،جنوبی ایشیا،وسطی ایشیا،خلیج اورمشرق وسطیٰ تک پھیلے ہوئے ہیں۔
1993ءمیں سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے حکومت کی بحالی پر سپیکرقومی اسمبلی گوہرایوب خان کی جانب سے معاملے کی بہترین کوریج پرایوارڈ
پاکستان ایجوکیشن سنٹردوحہ،قطرکی جانب سے بہترین کوریج رپورٹ پر ایوارڈ۔
راولپنڈی پریس کلب ،علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اوراقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کے تحت 1995 میںصحافتی فروغ بارے منعقدہ ایڈیٹروں کی گول میزکانفرنس کے موقع پرصحافتی خدمات کے اعتراف کاایوارڈ۔
پاکستان ایئرفورس کی جانب سے 1996ءمیں بہترین کوریج کاایوارڈ۔
اسلام آباد پشاورموٹروے کے 1997ءمیںسنگ بنیادرکھنے کے موقع پرنیشنل ہائی وے اتھارٹی کی جانب سے ایوارڈ۔
دبئی میںروزنامہ نوائے وقت کے زیراہتمام دسمبر 1998ءمیںمنعقدہ جشن قائداعظم کے موقع پرنیوزایجنسی کی حیثیت سے بہترین کارکردگی پرایوارڈ۔
راولپنڈی چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری کی جانب سے 1998ءمیں صحافتی خدمات پرایوارڈ۔
پاکستان سپورٹس کنٹرول بورڈ کے تحت1999ءمیں یوم تکبیرچاغی کپ کااعزاز۔
1999ءمیں بہترین ثقافتی رپورٹنگ پر پی ٹی وی ایوارڈ۔